بھٹکل 26؍دسمبر ( ایس او نیوز) راشٹریہ ہندو آندولن تنظیم کی جانب سے بھٹکل تحصیلدار کی معرفت مرکزی حکومت کو ایک میمورنڈم دیا گیا جس میں اس بات کی مذمت کی گئی ہے کہ ایس آئی ٹی کی طرف سے سناتن سنستھا، ہندوجن جاگرن سمیتی اور دیگر ہندوتواوادی تنظیموں پر بلاوجہ دہشت گردی کا الزام لگاکر ہراساں کیا جارہا ہے۔ اور ’زعفرانی دہشت‘ کا الزام ثابت کرنے کے لئے مالیگاؤں کا معاملہ سامنے لانے کی سازش رچی جارہی ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ گوری لنکیش قتل معاملے میں مختلف ہندوتواوادی تنظیموں کے 19 اراکین کو گرفتارکیا گیا ہے اور کرناٹکا ایس آئی ٹی کی طرف سے مضحکہ خیز الزام لگایاجارہا ہے کہ مقدس کتاب (گرنتھ) کو پڑھ کر دہشت گردانہ کارروائیا ں انجام دے رہے ہیں۔میمورنڈم میں سوال کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جو بم بلاسٹ اور دہشت گردانہ کارروائی ہورہی ہے وہ کونسی مقدس کتاب پڑھ کر کی جارہی ہے۔ نکسل وادی جو دہشت پھیلارہے ہیں وہ کونسی مقدس کتاب پڑھ رہے ہیں۔میمورنڈم میں لکھا ہے کہ گوری لنکیش قتل میں گرفتار ہونے والا کوئی ملزم سناتن سنستھا یا ہندوجن جاگرن سمیتی کا رکن یا عہدیدار نہیں ہے۔ ان تنظیموں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کانگریس کے دور میں ’زعفرانی دہشت گردی‘ کا شوشہ چھوڑاگیا تھامگر عدالتی کارروائیوں میں وہ ناکام رہا۔ اب مالیگاؤں کا نیا معاملہ سامنے لاکرسناتن سنستھا اور ہندو جن جاگرن سمیتی کو اس میں پھنسانے اور دوبارہ زعفرانی دہشت گردی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میمورنڈم میں دیش کی عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہونے کی بات کہتے ہوئے کہاگیا ہے کہ تمام ہندوتواوادی ملزمین بے قصور ثابت ہونگے اور باعزت بری ہوجائیں گے۔
پٹاخے پھوڑنے والوں کے خلاف کارروائی ہو :اسی ہندو آندولن کے کارکنان نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ کرسمس اور 31دسمبر کی رات کو پٹاخے پھوڑنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔کیونکہ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ رات میں صرف 11.55سے 12.20تک پٹاخے پھوڑنے کی اجازت ہوگی۔ اسی کے مطابق ابھی حال ہی میں دیپاولی کے موقع پر بہت سارے مقامات پر عدلیہ کے حکم کی خلاف ورزی کے کئی معاملات درج کیے گئے ہیں۔اب کرسمس اور نئے سال کے موقع پر بھی بڑی بھاری آوازوں والے پٹاخے رات بھر پھوڑے جائیں گے ، اس لئے پولیس کو اس معاملے میں بھی قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سبریملا مندر کی قدیم روایات کو باقی رکھنے کے لئے جدوجہد کرنے والے جن 3500بھکتوں پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی وجہ سے کیس داخل کیے گئے ہیں وزارت داخلہ کی طرف سے یہ مقدمات واپس لینا چاہیے۔
تحصیلدار دفتر میں میمورنڈم سونپنے کے دوران پُنڈلک پائی، دیانند پربھو، اُلاس پربھو، رام چندرا نائک، ڈگمبر شیٹ، ونود پربھو، شنکر شیٹ، جٹّا نائک، سریش موگیر، راما نائک، شری دھر ہریکانت، سریندر رائو اور دیگر موجود تھے۔